Vehari in history

 وہاڑی۔


وہاڑی وہاڑ سے ماخوز ہے جس کا معنی ہے نشیب یعنی نیچاٸی والا علاقہ۔دیگر روایت بھی تحریر میں زکر ہے۔1976 تک ضلع ملتان کا حصہ رہنے والا یہ شہر جسے یکم جولاٸی 1976 کو ضلع کا درجہ ملا تین تحصلیوں پہ مشتعمل ہے ۔وہاڑی ۔بورے والا۔اور میلسی۔ پورے پاکستان میں کپاس کی پیداوار کا سب سے بڑا ضلع ۔ اس ضلع کی شرقاً غرباً لمبائی 80 میل اور شمالاً جنوباً چوڑائی 40 میل بنتی ہے۔ اس کا کل رقبہ1854 مربع میل ہے۔وہاڑی کی آباد کاری باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت 1924ء میں شروع ہوئی۔ اس سال پاک پتن نہر نکلی اور1925ء میں نیلی بار پراجیکٹ شروع ہوا۔ مسٹر ایف ڈبلیو ویس پہلے منتظم آبادی مقرر ہوئے۔ 1925ء میں یہاں لائن بچھائی گئی اور 1928ء میں منڈی کی تعمیر ہوئی۔ 1927ء میں اسے نوٹیفائیڈ ایریا قرا ر دیا گیا، پھر ٹاٶن کمیٹی اور 1966ء میں میونسپل کمیٹی کا درجہ حاصل ہوگیا۔ ایک سکیم کے تحت علاقے میں دس ایکڑ فی خاندان رقبہ الاٹ کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ ضلع وہاڑی کے چکوک ڈبلیو بی 19، 21 اور 23، 1926ء میں اسی سکیم کے تحت وجودمیں آئے تھے۔ 1942ء میں وہاڑی کو تحصیل میلسی سے الگ کر کے تحصیل کا درجہ دے دیا گیا۔ 1963ء میں وہاڑی کو سب ڈویژن اور 1976ء میں اسے ضلع بنا دیا گیا۔ میلسی، بوریوالہ اور وہاڑی کو اس کی تحصیلیں اور ٹبہ سلطان اور گگو منڈی کو سب تحصیلوں کا درجہ دیا گیا۔دو دریاوں کو ملانے والی ٹھنگی نہر بھی وہاڑی سے گزرتی ہے۔میجر طفیل شہید نشان حیدر

۔قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان وسیم احمد.بوریوالا ایکسپریس وقار یونس.اولمپین وقاص اکبر کا تعلق اس ضلع سے ہے۔

ضلع وہاڑی میں 3 تحصیلیں

1-بوریوالہ۔2وہاڑی۔3میلسی ہیں

ضلع وہاڑی قومی اسمبلی کے4

اورصوبائی اسمبلی کے8حلقوں پرمشتمل ہے

مردم شماری2017کے مطابق ضلع وہاڑی کی کل آبادی

2897446ہے

پنجاب کا شہر ضلع وہاڑی، ملتان سے 100 کلومیٹر جبکہ بوریوالہ سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

یہ ضلع دو دریائوں ستلج اور بیاس کے درمیان ہے۔ اس ضلع کا علاقہ دریائے ستلج کے بائیں اور بیاس کے دائیں کنارے کے درمیان ہے۔ ماضی میں یہ علاقہ نیلی بار کہلاتا تھا۔ اس ضلع کی حدود جنوب کی طرف ضلع بہاولپور اور بہاولنگر سے ملتی ہیں۔ دریائے ستلج ان دونوں اضلاع کی حد بندی کا کام دیتا ہے۔ مشرقی طرف ضلع ساہیوال، شمال میں ضلع خانیوال اور شمال مغرب کی طرف ضلع ملتان واقع ہے۔ ماضی قدیم میں ہزاروں سال قبل اس علاقے میں چھوٹی چھوٹی آبادیاں پھیلی ہوئی تھیں اور یہ علاقہ تاریخی ریاست ملوہہ کا حصہ تھا۔ اس زمانے میں دریائے بیاس اپنی پوری روانی کے ساتھ موجود تھا۔  وسطی پنجاب یعنی ہڑپہ اور ملتان کے علاقے میں دریائے بیاس سوکھ گیا۔ اس آبی گزرگاہ کو آج کل مقامی زبان میں سکھ ویاہ (خشک بیاس) کہتے ہیں۔ 1985ء سے اس میں تھوڑا تھوڑا پانی رواں رہتا ہے۔ دریائے بیاس کے خشک ہوجانے کے بعد ان کے کنارے بسی بسائی آبادیوں پر موت نے اپنے سائے پھیلا دئیے۔ مختصر مختصر سی بستیاں، بڑے بڑے قصبے اور گاٶں کھنڈروں میں بدل گئے اور وہ بلند ٹیلوں کی صورت میں باقی رہ گئے۔ نہروں کے نکلنے کے بعد لوگوں نے ہزاروں برس پرانی بستیوں کے آثار کے حامل ٹیلوں کو ہموار کر کے زراعت شروع کردی۔ اس طرح قدیم مقامات کا نام و نشان ہی مٹ گیا۔ ضلع وہاڑی کے علاقے میں دریائے بیاس کو مقامی لوگ ’’ویاہ‘‘ کہتے تھے۔ جب بیاس سوکھ گیا تو برساتی نالے کی گزرگاہ کے لئے بھی لفظ ’’ویاہ‘‘ استعمال ہونے لگا۔ چنانچہ برساتی نالوں کے قریب کئی بستیاں آباد ہوئیں جو لفظ ’’ویاہ‘‘ کی نسبت سے ’’ویاڑی‘‘ اور پھر ہوتے ہوتے ’’وہاڑی‘‘ کہلائیں۔ اس نام کی کئی بستیاں مثلاً وہاڑی سموراں والی اور وہاڑی ملکاں والی وغیرہ آباد ہیں۔ وہاڑی دراصل ’’وہاڑی لُڑکیاں والی‘‘ نام کی ایک معمولی بستی تھی جو اس جگہ آباد تھی جہاں آج کل اسلامیہ ہائی سکول واقع ہے۔ رفتہ رفتہ اس لمبے نام کا تخصیصی حصہ ’’لُڑکیاں والی‘‘ کثرت استعمال سے حذف ہوگیا، اور اس پرانی بستی کی جگہ جواب ناپید ہو چکی ہے۔ نئی بستی صرف ’’وہاڑی‘‘ کہلائی۔ ابتداً وہاڑی میلسی میں شامل تھا ۔ ماضی میں اس علاقہ کا تعلق ملتان سے رہا ہے۔ ضلع وہاڑی کی تحصیل بوریوالہ کا قصبہ کھتوال سب سے پُرانا اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ علاقہ محمد بن قاسم کی ملتان فتح کے وقت راجہ داہر کی حکومت کے ماتحت تھا۔ اکبر بادشاہ کے زمانے میں 1591ء میں ملتان، کہروڑپکا، جھنگ، شورکوٹ اور وہاڑی کے علاقوں کو ملا کر دوبارہ صوبہ ملتان بنایا گیا۔ اسی عرصے میں بادشاہ اکبر کے دور میں ستلج دریاکے دائیں کنارے کے علاقے پر جوئیہ خاندان کا راج تھا اور ان کا مرکز فتح پور (تحصیل میلسی) تھا۔ یہ قصبہ آج بھی قائم ہے۔ 1748ء سے 1752ء کے دوران معین الدین اور میر منو لاہور اور ملتان کے صوبیدار مقرر ہوئے۔ میر منو نے ایک چھوٹے درجہ کے ہندو کوڑا مل کو علاقہ ملتان کا کچھ مشرقی حصہ، جس میں وہاڑی، میلسی، کہروڑپکا، بہاول گڑھ اور دُنیا پور کے علاقے شامل تھے، پٹے پردے دیا۔ کوڑا مل نے بغاوت کی اور مہاراجہ کا لقب اختیار کر کے ان علاقوں پر حکمرانی کرنے لگا۔ بعد ازاں اس کے خلاف کارروائی کرکے اس کا اقتدار ختم کر دیا گیا۔ اٹھارہویں صدی عیسوی کے آخری ربع میں نواب مظفر خاں والیِ ملتان کی حکومت قائم ہوئی

Comments

Popular Posts